Get Alerts

قائدِ عوام کی 47 ویں برسی: وفاقی دارالحکومت سے گڑھی خدا بخش تک سادگی کی لہر

قائدِ عوام کی 47 ویں برسی: وفاقی دارالحکومت سے گڑھی خدا بخش تک سادگی کی لہر

لاڑکانہ/ اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ کے درخشندہ ستارے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی آج ملک کے طول و عرض میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ اس سال برسی کی خاص بات پارٹی قیادت کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت معاشی حالات اور کفایت شعاری کو ترجیح دیتے ہوئے روایتی گہما گہمی کے بجائے سنجیدگی اور سادگی کو اپنایا گیا ہے۔
ماضی کے برعکس، جہاں گڑھی خدا بخش میں لاکھوں کا مجمع اکٹھا ہوتا تھا، اس بار حکمتِ عملی تبدیل کی گئی ہے۔ پارٹی نے ہدایت جاری کی ہے کہ تمام شہروں اور ضلعی مراکز میں مقامی سطح پر قرآن خوانی اور دعائیہ تقاریب کی جائیں تاکہ عام کارکن اپنے ہی علاقے میں شرکت کر سکے۔
 چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے مزارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ ضلعی سطح پر مستحقین میں لنگر تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے، جسے پارٹی "بھٹو کی عوامی خدمت" کے تسلسل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے تفصیلی بیان میں شہید بھٹو کی سیاسی بصیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 1971 کے سانحے کے بعد قوم مایوسی کا شکار تھی، بھٹو شہید نے 90 ہزار قیدیوں کو رہا کروا کر اور زمینیں کسانوں کو دے کر عوام میں جینے کی نئی امنگ پیدا کی۔ صدر نے یاد دلایا کہ آج پاکستان جس آئین پر قائم ہے، وہ بھٹو کا دیا ہوا متفقہ تحفہ ہے جس نے وفاق کو مضبوط کیا۔
 بھٹو نے عالمِ اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو "آزاد" خطوط پر استوار کیا۔
4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت نے پاکستان کی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ 47 سال گزرنے کے باوجود، پیپلز پارٹی آج بھی ان کے "روٹی، کپڑا اور مکان" کے نعرے کو اپنی بنیاد قرار دیتی ہے۔اس سال بڑے جلسے کا انعقاد نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پیپلز پارٹی خود کو ایک ذمہ دار حکومتی فریق کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے جو ملکی خزانے اور عوامی مشکلات کا ادراک رکھتی ہے۔
آج کی ان تقاریب میں نہ صرف بھٹو شہید بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جا رہا ہے، اور جیالے اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ بھٹو کے نظریے کو اگلی نسلوں تک منتقل کرتے رہیں گے۔

ٹیگز: