Get Alerts

اسرائیل کے 600 سابق اعلیٰ سیکیورٹی افسران کا صدر ٹرمپ سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

اسرائیل کے 600 سابق اعلیٰ سیکیورٹی افسران کا صدر ٹرمپ سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

تل ابیب / واشنگٹن :  اسرائیل کے 600 سے زائد سابق اعلیٰ سیکیورٹی عہدیداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ یہ مطالبہ ایک کھلے خط کے ذریعے سامنے آیا ہے جسے "کمانڈرز فار اسرائیل سیکیورٹی" نامی گروپ نے جاری کیا۔

خط میں صدر ٹرمپ سے کہا گیا ہے کہ جس طرح انہوں نے لبنان میں مداخلت کر کے کشیدگی کو روکا، اب اسی طرح غزہ کے معاملے میں بھی مضبوط سفارتی کردار ادا کریں۔ سابق سیکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کر چکی ہے، اور اب باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی صرف مذاکرات سے ممکن ہے۔

سابق اہلکاروں کے مطابق حماس اب اسرائیل کے لیے کوئی اسٹریٹجک خطرہ نہیں رہی، اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ایک علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جائے، جو غزہ میں حماس کے بجائے ایک نئی قیادت کو فروغ دے — جو اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کی زیر قیادت ہو۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ نے نہ صرف انسانی المیہ جنم دیا ہے بلکہ اسرائیل کی ساکھ اور مستقبل کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کا قائدانہ کردار نہایت اہم ہو گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے اندر سے اس نوعیت کی آواز کا اٹھنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ سابق جنرلز، انٹیلی جنس چیفز اور دفاعی ماہرین کا مشترکہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کا ایک بڑا حلقہ جنگ کے جاری رہنے کے خلاف ہے اور مسئلے کے سیاسی حل کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔

ٹیگز: