اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں جاری اصلاحات پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نما ئندہ نیو نیوز اسلام آبادجاوید نور کے مطابق اجلاس کے دوران ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس (Faceless) بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا، جسے وزیراعظم نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ایک خودکار اور جدید ٹیکس مینجمنٹ نظام کا قیام ممکن بنایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران نئے نظام کے تحت 3 خصوصی ونگز قائم کرنے کی تجویز دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور AI کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو خودکار اور شفاف بنایا جائے گا۔ یہ نیا مجوزہ نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کے ذریعے کم ظاہر کی گئی آمدن اور چھپائے گئے اثاثوں کی خودکار طریقے سے نشاندہی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے اس آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ پروجیکٹ فوری طور پر اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر قانونی سگریٹس کے خلاف کیے گئے سخت انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں اس سال قومی خزانے کو 40 ارب روپے کا اضافی ٹیکس حاصل ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعظم نے اس کامیاب مہم پر تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نزیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا واللّٰہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔