لاہور : پروسٹیٹ کینسر کے جدید مرحلے کے علاج کے لیے تیار کی گئی نئی دوا VIR-5500 کے ابتدائی آزمائشی نتائج کو طبی ماہرین نے شاندار اور غیر معمولی قرار دیا ہے۔ یہ دوا ایک امیونو تھراپی ہے، جس کا مقصد جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرنا ہے۔ اس دوا نے نہ صرف موجودہ رسولیوں کو سکڑنے میں مدد دی بلکہ ان کی مزید نمو کو روکنے کی بھی صلاحیت دکھائی ہے۔
کینسر کے ماہرین نے اس دوا کے نتائج کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ روایتی امیونو تھراپیز پروسٹیٹ کینسر میں ماضی میں اتنی کامیاب نہیں رہی تھیں۔ اکثر یہ تھراپیز رسولیوں کو نمایاں طور پر کم کرنے میں ناکام رہیں اور مریضوں میں شدید ضمنی اثرات کا باعث بنی تھیں۔
VIR-5500 کا ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ دوا ایک "خفیہ نظام" استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دوا صرف رسولی تک پہنچنے کے بعد ہی فعال ہوتی ہے، جس سے مضر اثرات کے خطرے کو بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (ASCO) کے جینیٹویورینری کینسرز سمپوزیم میں محققین نے اس دوا کے آزمائشی نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوا کو 58 مردوں پر آزمایا گیا، جن میں اگلے مرحلے کا پروسٹیٹ کینسر تھا اور دیگر علاجوں کا اثر ختم ہو چکا تھا۔ ان نتائج کے مطابق، VIR-5500 نے کینسر کی موجودہ رسولیوں کو کم کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے، جس سے مستقبل میں پروسٹیٹ کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔