جدہ ،سلام آباد :تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ پرمننٹ ہیومن رائٹس کمیشن (IPHRC) نے بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک، نفرت انگیز بیانیے اور پرتشدد حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بیان خاص طور پر پہلگام واقعے کے بعد سامنے آنے والے رجحانات کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے، جہاں شدت پسند ہندو گروپوں نے مسلمانوں کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف پرتشدد کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔انڈیپنڈنٹ پرمننٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے ان اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ بھارت کے سیکولر اور جمہوری دعوؤں کے منافی ہے۔بیان میں عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کی لہر اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر پر فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔
انڈیپنڈنٹ پرمننٹ ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں، جن میں ICCPR (بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق)، ICESCR (اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق) اور ICERD (نسلی امتیاز کے خاتمے کا کنونشن) شامل ہیں، کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
کمیشن نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، نفرت انگیز تقاریر، امتیازی بیانات اور فرقہ وارانہ تشدد کو روکے، اور ان جرائم میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بھارت، ICCPR کی دفعات 2، 18، 26 اور 27 کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جن کا تعلق مذہبی آزادی، مساوی سلوک، اور اقلیتوں کے حقوق سے ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
OIC-IPHRC نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے بعد کے اقدامات کو بھی مسترد کر دیا، جن کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے وہاں کی آبادیاتی ترکیب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ کمیشن نے کہا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی صریح نفی ہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی شہری آزادیوں کو بحال کیا جائے،تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے،اجتماعی سزا اور کرفیو جیسے اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔اقوام متحدہ اور OIC کے مبصرین کو خطے تک فوری رسائی دی جائے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری کے ذریعے اپنا مستقبل خود طے کرنے کا موقع دیا جائے۔
کمیشن نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ یا تو فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے یا کمیشن آف انکوائری قائم کرے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی باقاعدہ تحقیقات کی جا سکیں۔