Get Alerts

مجوزہ آئینی ترامیم 18ویں ترمیم کے خاتمے کے مترادف ہوں گی:رضا ربانی

مجوزہ آئینی ترامیم 18ویں ترمیم کے خاتمے کے مترادف ہوں گی:رضا ربانی

کراچی:پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے خبردار کیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کی مجوزہ آئینی ترامیم منظور ہو گئیں تو یہ 18ویں آئینی ترمیم کے خاتمے کے مترادف ہوں گی۔

رضا ربانی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی خودمختاری میں تبدیلی دراصل 18ویں ترمیم کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت 2010 میں صوبوں کو کئی وفاقی وزارتیں اور محکمے منتقل کیے گئے تھے، جن میں تعلیم اور آبادی کے محکمے شامل ہیں۔

انہوں نے انتباہ دیا کہ موجودہ نازک سیاسی حالات میں صوبائی خودمختاری سے چھیڑ چھاڑ وفاق پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے اور مجوزہ ترامیم شدت پسند قوم پرستوں کو دوبارہ غیر آئینی سرگرمیوں کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔

رضا ربانی نے مزید کہا کہ صوبوں کو واپس کی جانے والی وزارتیں وفاق پر مالی بوجھ ڈالیں گی اور مالیاتی اختیارات واپس لینا شراکتی وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر وفاق مالی معاملات سنبھالنے میں ناکام ہے تو صوبوں کو ٹیکس جمع کرنے اور وفاقی اخراجات کو مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے پورا کرنے کی اجازت دی جائے۔

حکومت کی جانب سے قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے تصدیق کی کہ اس ترمیم کے بارے میں بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی کوئی مسودہ تیار نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ برسوں میں 18ویں ترمیم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا اس کی ضمانتوں کے خاتمے کے خلاف موقف اختیار کیا ہے، جبکہ رضا ربانی نے مسلسل اس ترمیم کی حمایت کی ہے اور کسی بھی تبدیلی کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ٹیگز: