Get Alerts

پنشن نظام میں بڑی تبدیلی، وزارت خزانہ نے نئے شراکتی قواعد نافذ کر دیے

پنشن نظام میں بڑی تبدیلی، وزارت خزانہ نے نئے شراکتی قواعد نافذ کر دیے

کراچی: حکومت نے وفاقی ملازمین کے پنشن نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نئے ملازمین کو اپنی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کروانا ہوگا، جس کے ساتھ حکومت 12 فیصد کا حصہ شامل کرے گی۔ اس طرح ملازمین اور حکومت کا کل شراکت 22 فیصد ہو گا۔

نئی اسکیم، جسے ’کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ اسکیم‘ کا نام دیا گیا ہے، یکم جولائی 2024 سے سول ملازمین پر اور یکم جولائی 2025 سے مسلح افواج کے ملازمین پر نافذ العمل ہو گی۔ یہ نظام پرانے ’ڈیفائنڈ بینیفٹ‘ ماڈل کی جگہ لے گا اور مالیاتی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ورلڈ بینک کی سفارش پر متعارف کرایا گیا ہے۔

وزارت خزانہ نے ایف جی ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024 جاری کر دیے ہیں، جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت نافذ ہوں گے۔ نئے قواعد کے مطابق، پنشن فنڈ کی نگرانی مجاز فنڈ منیجرز کریں گے اور ملازمین کو ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنی جمع شدہ رقم نکالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

حکومت نے 2024-25 کے بجٹ میں اس اسکیم کے لیے 14 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے ہیں تاکہ نئے نظام کو کامیابی سے نافذ کیا جا سکے۔ اس تبدیلی کا مقصد مستقبل میں پنشن کے اخراجات کو کم کرنا اور مالی استحکام فراہم کرنا ہے۔

ٹیگز: