مظفرآباد: آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان مذاکرات کامیابی سے اختتام پذیر ہوئے ہیں۔ دونوں فریقوں نے 25 نکات پر اتفاق کیا جس کے بعد مظفرآباد کی سڑکیں کھل گئیں اور احتجاج ختم ہو گیا۔
معاہدے کے اہم نکات میں شامل ہیں کہ پرتشدد واقعات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا، جاں بحق افراد کے ورثا کو معاوضہ اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں گی، جبکہ زخمیوں کو 10 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ مظفرآباد اور پونچھ میں دو نئے تعلیمی بورڈ بنائے جائیں گے اور تمام تعلیمی بورڈز کو وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔
حکومت نے میرپور کے متاثرہ خاندانوں کو 30 دن میں زمین کا قبضہ دینے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 میں ترامیم اور صحت کے شعبے میں ہیلتھ کارڈ کے لیے فنڈز جاری کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق گرفتار مظاہرین کو جلد رہا کیا جائے گا اور معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کابینہ کے حجم کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے اس معاہدے کو کشمیری عوام کی فلاح و بہبود کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔