نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ جاپان اور چین کے دورے کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی غیر موجودگی نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں ہمیشہ وزیر اعظم کے ہمراہ غیر ملکی دوروں میں شامل رہنے والے جے شنکر اس بار اہم دورے کا حصہ نہیں تھے، جس پر ماہرین اور تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جے شنکر کو بھارت کی امریکہ نواز خارجہ پالیسی کا معمار سمجھا جاتا ہے اور ان کا چین کے حوالے سے سخت مؤقف بھی معروف ہے۔ تاہم اس بار شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں ان کی غیر موجودگی پر سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ غیر سرکاری ذرائع نے طبیعت کی ناسازی کو وجہ قرار دیا مگر وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا۔
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ غیر موجودگی محض اتفاق نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کے اندرونی اختلافات کی عکاسی ہو سکتی ہے، خاص طور پر چین کے معاملے پر جے شنکر کے سخت رویے کی وجہ سے۔ سابق وزراء اور سیکرٹریز نے بھی وزیر خارجہ کی اس اہم موقع پر غیر موجودگی پر حیرت کا اظہار کیا ہے، تاہم وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ جے شنکر پالیسی ساز نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کرنے والے عہدیدار ہیں۔