بیجنگ: پاکستان اور چین نے زراعت، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی، صحت، کیمیکل، آئرن و اسٹیل سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور دونوں ممالک کی اہم کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔
پاکستان اور چین کی بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک منفرد مثال ہے جو دیانتداری، باہمی احترام اور ہر خوشی و غم میں تعاون کی بنیاد پر قائم ہے۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا مخلص دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر مشکل گھڑی میں چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، چاہے وہ زلزلہ ہو یا سیلاب۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2015 میں دونوں ممالک نے سی پیک کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے نتیجے میں چینی کمپنیوں نے پاکستان میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس سرمایہ کاری سے لوڈشیڈنگ کے مسائل ختم ہوئے، صنعتیں بحال ہوئیں اور کئی بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع ہوئے۔
شہباز شریف نے سی پیک 2.0 کا آغاز کرنے کا اعلان کیا جو مکمل طور پر بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ اپنے تجربات اور سرمایہ کاری اس اہم شعبے میں لگائیں تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔
وزیراعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات کو بھی باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کے بنیادی ستون ہوں گے جو چینی سرمایہ کاروں کے لیے مزید مواقع فراہم کریں گے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور متعلقہ وزراء اور محکمے سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہو رہی ہے اور چین کے تعاون سے یہ ترقی کا سفر جاری رہے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے جو ترقی کی ہے وہ بے مثال ہے، جس نے 700 ملین افراد کو غربت سے نکالا اور دنیا کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ایک متحرک معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد ایک چیلنج ہے، جس کے لیے دونوں حکومتیں مل کر کام کریں گی۔ انہوں نے اس تعاون کو دونوں ممالک کی معیشت کے لیے لانگ مارچ قرار دیا جو مستقبل میں پاکستان کو سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے دور میں لے جائے گا۔
وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے اور حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی اور وہ خود بھی اس مقصد کے لیے دن رات محنت کریں گے تاکہ دونوں ممالک کی دوستی اور اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں۔