پشاور: پشاور میں خیبرپختونخوا کی مجوزہ ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 کے مسودے پر مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں مختلف سرکاری محکموں اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبے کی پہلی جامع ٹرانسپورٹ پالیسی کے اہم نکات اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔
مجوزہ پالیسی میں صوبے کے لیے محفوظ، جدید اور باہم مربوط سفری نظام تشکیل دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کے تحت خواتین، خصوصی افراد اور دیگر کم سہولت یافتہ طبقات کے لیے سفری سہولیات کو مزید بہتر اور قابلِ رسائی بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
مسودے کے مطابق مختلف ذرائع نقل و حمل کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے لیے مربوط نظام تیار کیا جائے گا، تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران زیادہ سہولت اور بہتر سروس فراہم کی جاسکے۔
پالیسی میں مال برداری اور لاجسٹکس کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ علاقائی تجارتی راستوں کو مؤثر بنانے اور صوبے کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط کرنے کے لیے بھی متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
مجوزہ پالیسی میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال، شفاف انتظامی نظام اور مؤثر نگرانی کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔
معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 صوبے کے سفری نظام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ مسودے پر مزید مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد اسے منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ کابینہ کی منظوری کے بعد پالیسی کو باضابطہ طور پر نافذ کردیا جائے گا۔