اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس کی کٹوتی کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ڈیجیٹل معیشت میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق، اگر صارف آن لائن آرڈر کی ادائیگی آن لائن یا کیش آن ڈیلیوری (COD) کے ذریعے کرتا ہے تو متعلقہ ادائیگی کرنے والے ادارے یا کوریئر سروس فراہم کنندہ پر لازم ہوگا کہ وہ مصنوعات کی فراہمی کے وقت سیلز ٹیکس کی کٹوتی کرے اور بقیہ رقم وینڈر یا سپلائر کو منتقل کرے۔
اس کے علاوہ، ڈیجیٹل آرڈرز کی ترسیل میں مدد کرنے والی کوریئر کمپنیاں ہر ماہ کی 10 تاریخ تک ایف بی آر کو تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں گی جس میں تمام سپلائرز، ان کے رجسٹریشن نمبر اور فراہم کردہ اشیاء کی مکمل تفصیل شامل ہوگی۔ یہ رپورٹ ایف بی آر کے متعین کردہ فارم کے مطابق ہوگی۔
سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ایک نیا باب شامل کرتے ہوئے ایف بی آر نے آن لائن مارکیٹ پلیسز، ادائیگی کے ذرائع اور کوریئر خدمات پر سیلز ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے ضروری ترامیم کی ہیں۔ یہ نئی ہدایات ان تمام مصنوعات پر لاگو ہوں گی جو آن لائن ویب سائٹس، ایپلیکیشنز یا مارکیٹ پلیس کے ذریعے آرڈر کی جائیں گی۔
پیمنٹ انٹرمیڈیئریز اور کوریئر کمپنیاں جو ڈیجیٹل آرڈرز کی ترسیل میں کردار ادا کرتی ہیں، انہیں ہر ماہ ایف بی آر کو رپورٹ جمع کروانا ہوگی۔ پیمنٹ گیٹ وے فارم (STR-35)، کوریئر کمپنیوں کے لیے STR-36، اور آن لائن مارکیٹ پلیس کے لیے STR-34 فارم استعمال کیے جائیں گے۔ اگر کوئی آن لائن مارکیٹ پلیس کوریئر سروس بھی فراہم کرتی ہے تو اسے دونوں فارم جمع کروانے ہوں گے۔
نئے نظام کے تحت، پیمنٹ انٹرمیڈیئریز اور کوریئر کمپنیاں سیلز ٹیکس کٹوتی کے بعد وینڈر یا سپلائر کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کریں گی جس میں وینڈر کا نام، رجسٹریشن نمبر، فراہم کردہ سامان کی تفصیلات اور کٹوتی شدہ سیلز ٹیکس کی معلومات شامل ہوں گی۔
ایف بی آر کے مطابق یہ اقدامات آن لائن کاروبار میں ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے اور ڈیجیٹل مارکیٹ میں شفافیت قائم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔