نیو دہلی: نریندر مودی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وادی بھر میں احتجاج و ہڑتال کی گئی۔ سڑکوں پر سناٹا رہا اور کشمیری عوام نے ان کے دورے پر یوم سیاہ منایا تھا۔
بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا اور جب وہ 'دل جھیل' کی سیر کو پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ ان کا استقبال کر رہے ہیں اور پہاڑوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ لہراتے رہے۔
بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے جب ان کی یہ ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی تو اس پر کشمیر کے سیاسی رہنماؤں سمیت سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانے بنانے کے ساتھ مختلف جملے کسے۔
مقبوضہ جموں کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نریندر مودی کا ہاتھ ہلانا کشمیر میں نہ دکھائی دینے والے ان گنت بی جے پی کے دوستوں کے لیے ہے۔
For the those who are asking , the ???? is for BJPs countless imaginary ‘friends’ in Kashmir. https://t.co/l0YPq2oiVy
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) February 4, 2019
سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ کیمرہ مین نے نریندر مودی کے ہاتھ ہلانے کا جواب دینے والے لوگوں کو نہ دکھا کر ذمہ داری کی ادائیگی میں بہت بڑی غفلت کی۔ کیوں کہ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی کہ وزیراعظم خالی جھیل پر ہاتھ لہرائیں۔
This camera person has done the Hon PM a huge disservice by not showing all the people furiously waving back because there is no way the PM would be waving at an empty lake. https://t.co/YJoEfX8DJ3
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) February 4, 2019
بھارتی مصنف اور سیاستدان سلمان نظامی نے نریندر مودی کی ویڈیو پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کس کو ہاتھ ہلا رہے تھے ویڈیو کے آخر میں دیکھیں۔