Get Alerts

جنگ بندی قرارداد کی ناکامی تاریخ یاد رکھے گی،عاصم افتخار

 جنگ بندی قرارداد کی ناکامی تاریخ یاد رکھے گی،عاصم افتخار

نیویارک : اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہونے پر پاکستان نے شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو یہ عالمی برادری کی ایک "خطرناک ناکامی" سمجھی جائے گی۔

عاصم افتخار نے کہا کہ غزہ کی صورتحال جہنم سے بھی بدتر ہو چکی ہے، جہاں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک انسانی بحران نہیں، بلکہ "انسانیت کی مکمل تباہی" ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کی مکمل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کی قرارداد کا ویٹو ہونا انسانی حقوق، عالمی انصاف اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ میں خوراک اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتا رہے گا۔

واضح رہے کہ الجزائر نے غزہ میں جنگ بندی اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی کے لیے قرارداد پیش کی تھی، جسے سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے منظور کیا، لیکن امریکا نے ویٹو کر دیا، جس کی وجہ سے یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ پاکستان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

عاصم افتخار نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ نہ صرف غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے، بلکہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔

ٹیگز: