تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عربی زبان میں خلیجی اور ہمسایہ ممالک کے سربراہان کے نام پیغام جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ سے بچنے کے لیے سفارت کاری کی بھرپور کوشش کی، لیکن امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث دفاعی اقدامات کرنا پڑے۔
صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام صرف علاقائی تعاون سے ممکن ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران اور مغربی اتحادیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق عربی زبان میں براہِ راست پیغام جاری کرنے کا مقصد خلیجی ریاستوں کو اعتماد میں لینا اور ممکنہ علاقائی تنازعات کو محدود رکھنا ہے۔
اسی دوران ایران نے خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد وہ تنصیبات تھیں جہاں ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کی جا رہی تھی۔ مختلف خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔