اسلام آباد: پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی کے حالیہ معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے معاہدوں سے جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران اس معاہدے کے منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا بھارت نے اپنی کئی جوہری تنصیبات کو اب تک عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی (Safeguards) میں نہیں دیا، جو کہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بیرونی ممالک سے یورینیم کی فراہمی بھارت کو موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنا مقامی یورینیم مکمل طور پر فوجی مقاصد اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کرے. اس معاہدے سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔
پاکستان نے عالمی برادری اور جوہری سپلائرز گروپ (NSG) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو دی جانے والی خصوصی مراعات پر نظرِ ثانی کرے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امتیازی سلوک اور مخصوص ممالک کو قوانین سے استثنیٰ دینے کے عمل سے عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔