اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سات رکنی آئینی بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی، جس میں دیگر ججز میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے 9 مئی کے ملک گیر پرتشدد واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس روز ملک بھر میں 39 مقامات پر حملے کیے گئے، جن میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، ایئربیس میانوالی اور آئی ایس آئی دفاتر شامل تھے۔
عدالت نے دوران سماعت کئی اہم آئینی نکات اٹھائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آیا 9 مئی کے واقعات ایک احتجاج کی صورت میں شروع ہوئے جو بعد میں شدت اختیار کر گئے، یا یہ سب کچھ پہلے سے منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر فوجی افسران پر بھی غفلت کا الزام ہے تو کیا ان کے خلاف فوجداری کارروائی ہوئی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کور کمانڈر لاہور سمیت تین اعلیٰ فوجی افسران کو بغیر پنشن ریٹائر کر دیا گیا ہے، تاہم یہ کارروائی صرف محکمانہ سطح پر کی گئی، فوجداری مقدمہ نہیں بنایا گیا۔
جسٹس مسرت ہلالی اور دیگر ججوں نے سوال اٹھایا کہ آرمی ایکٹ میں عام شہریوں پر مقدمات کے لیے ترمیم کیوں نہیں کی گئی؟ عدالت نے اس امر پر بھی غور کیا کہ فوجی عدالتوں میں سزا پانے والے افراد کی اپیل کا کیا طریقہ کار ہونا چاہیے، اور یہ کہ کیا ان کی آئینی اور قانونی حیثیت برقرار رہ سکتی ہے۔
عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور عندیہ دیا کہ مختصر فیصلہ اسی ہفتے سنایا جائے گا۔