Get Alerts

غزہ میں قیامِ امن اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مصر میں اہم مذاکرات کا آغاز آج سے

غزہ میں قیامِ امن اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مصر میں اہم مذاکرات کا آغاز آج سے

قاہرہ  : غزہ میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور خطے میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پر عملدرآمد کے پہلے مرحلے کے لیے آج سے مصر میں بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مذاکرات میں مصر، ترکی، اسرائیل، امریکہ اور حماس کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اگرچہ بات چیت کے مقام کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، لیکن قوی امکان ہے کہ یہ مذاکرات سیاحتی شہر شرم الشیخ میں ہوں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے باعث اس بار مذاکرات قطر کے بجائے مصر میں ہو رہے ہیں، تاکہ غیر جانبدار ماحول میں پیشرفت ممکن ہو سکے۔

اسرائیل نے بھی مذاکرات کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ان میں غزہ سے ممکنہ انخلا کے نقشے تیار کرنا اور فلسطینی قیدیوں کی فہرستوں کا جائزہ شامل ہے، جو ممکنہ طور پر قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی منصوبے میں شامل بعض نکات مبہم ہیں، جن پر مزید وضاحت اور بات چیت کی ضرورت ہے۔ادھر ایک مصری سیکیورٹی اہلکار نے عندیہ دیا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دی گئی 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان موجود ہے، تاکہ فریقین کو مزید وقت مل سکے۔

ٹیگز: