لاہور: پنجاب کے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود موقع پر آئیں اور کسی پراکسی کے پیچھے نہ چھپیں۔ عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کی طرف سے پنجاب کے سیلاب متاثرین پر کی جانے والی سیاست کو ناکام قرار دیا اور بلاول بھٹو کی وفاق اور وزیراعظم کے خلاف کارکردگی پر تنقید کی۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے اور صوبائیت اور لسانیت کے کارڈ کھیل کر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کی ترقی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے سندھ کے کئی حصوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت پر کراچی کے مسائل جیسے صفائی، سڑکوں کی خراب حالت اور سولر پینل منصوبے میں کرپشن کو چھپانے کے لیے لسانیت کے کارڈ کھیلنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات شفاف ہوں گے اور سندھ کی طرح بوگس انتخابات نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب، سندھ حکومت کے ترجمان مصطفٰی عبداللہ بلوچ نے پنجاب حکومت کو بلدیاتی انتخابات کرانے اور مقامی مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے بجائے پنجاب حکومت جھنگ، جہلم، فیصل آباد اور مری کے دورے کر رہی ہے اور پنجاب میں بڑھتی ہوئی صوبائیت کو افسوسناک قرار دیا۔
مصطفٰی بلوچ نے پنجاب حکومت پر گھر کے مسائل کو عوام کے سامنے لانے اور پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر غصہ نکالنے کا الزام بھی لگایا۔