نیویارک/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد دنیا ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن نے ان بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور "جنگی جرم" قرار دے دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے ایک ہنگامی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اعلامیے کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ شہری ڈھانچے، پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دینا بین الاقوامی انسانی حقوق کے خلاف ہے اور یہ براہِ راست جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ایرانی مشن نے کہا، "اگر عالمی اداروں کا ضمیر زندہ ہوتا، تو امریکی صدر کی ان وحشیانہ اور غیر مہذب دھمکیوں پر خاموشی اختیار نہ کی جاتی۔ تہران نے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ "آج ایکشن لیں! ورنہ کل بہت دیر ہو جائے گی۔" عالمی برادری کو اس جنونیت کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے آج رات 10 بجے فوجی قیادت کے ہمراہ متوقع پریس کانفرنس نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کی، تو ایران کا جوابی ردِعمل پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
ایران کا اقوامِ متحدہ سے رجوع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس معاملے کو قانونی اور سفارتی سطح پر عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے، تاہم زمین پر فوجی تیاریاں کسی بڑے تصادم کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔