ماسکو/بیجنگ: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے جنگی جنون کو لگام دینے کے لیے عالمی طاقتیں میدان میں آگئی ہیں۔ روس اور چین نے ایران کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ "دھمکیوں کی زبان" بند کرے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والے اہم رابطے میں اتفاق کیا گیا کہ جنگی صورتحال کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ الٹی میٹم کی زبان ترک کرے اور صورتحال کو دوبارہ میز پر لائے۔
روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے بھی ٹیلیفونک رابطے میں مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں عالمی طاقتوں نے خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیاسی تنازعات کے حل کے لیے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔روس اور چین نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی فوری بحالی کو عالمی معیشت کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اس سلسلے میں مشترکہ سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کا ایک ساتھ متحرک ہونا واشنگٹن کے لیے واضح پیغام ہے کہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ روس اور چین نے واضح کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کی کوششیں تب ہی مثبت نتائج دے سکتی ہیں جب امریکہ دھمکی آمیز لہجہ تبدیل کرے۔