سری نگر:مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک کی موت کی وجوہات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کی آخری ٹویٹ نے ایک تہلکہ مچا دیا۔ ستیہ پال ملک نے اپنی آخری ٹویٹ میں اپنے آخری وقت میں حکومت کی طرف سے مسلسل دباؤ، دھمکیوں اور رشوت کی پیشکش کا انکشاف کیا تھا۔
سابق گورنر ستیہ پال ملک نے اپنی آخری ٹویٹ میں لکھا تھا، "چاہے میں رہوں یا نہ رہوں، میں ہمیشہ سچ بتاؤں گا۔ مجھ پر حکومت کی جانب سے رشوت اور دھمکیوں کا بے انتہا دباؤ ہے۔" اس پیغام نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی بلکہ عالمی سطح پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
ستیہ پال ملک نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کی پالیسیوں پر خاموش رہنے کے لیے مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر کشمیر کے معاملات پر کچھ نہ بولنے کی سختی سے تاکید کی گئی تھی۔
ملک کی موت کے بعد ان کے پیغام نے دنیا بھر میں سنسنی پھیلادی ہے اور ان کی موت کو طبعی نہیں بلکہ ایک مشتبہ واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ستیہ پال ملک کی موت ایک منظم سازش کا حصہ ہو سکتی ہے، جس کا مقصد ان کی آواز کو دبا دینا تھا۔
ستیہ پال ملک نے اپنے دور میں مقبوضہ کشمیر کی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی، اور اس دوران ان کے کئی فیصلے متنازعہ رہے تھے۔ ان کی پالیسیوں پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل آیا، خاص طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد۔
ستیہ پال ملک کی موت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھ رہے ہیں، اور ان کی آخری ٹویٹ نے ان کے مداحوں اور سیاسی تجزیہ کاروں میں ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ اب اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ کیا ان کی موت ایک حادثہ تھی یا اس کے پیچھے کچھ اور سازش چھپی ہوئی ہے۔