لاہور: برسات کا موسم جہاں موسم کی شدت میں کمی لاتا ہے، وہیں نمی، آلودگی اور جراثیم کی افزائش کے باعث مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ انہی موسمی مسائل میں آنکھوں کے انفیکشن بھی شامل ہیں، جو مون سون کے دوران زیادہ عام ہو سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق بارشوں کے موسم میں ہوا میں نمی کی زیادتی، گردوغبار، آلودہ پانی اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات آنکھوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انفیکشن کی صورت میں آنکھوں میں جلن، سوزش اور سرخی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہونے لگتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنکھوں کے انفیکشن کی نمایاں علامات میں آنکھوں کا سرخ ہونا، خارش، درد، مسلسل پانی آنا، سوجن اور نظر دھندلا ہونا شامل ہیں۔ اگر یہ علامات زیادہ بڑھ جائیں تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھنے کے لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ ہاتھوں کو باقاعدگی سے صابن سے دھونا، بغیر دھلے ہاتھوں سے آنکھوں کو چھونے سے گریز کرنا اور ذاتی صفائی برقرار رکھنا بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ آنکھوں میں خارش یا جلن کی صورت میں انہیں بار بار رگڑنے سےگریز کیا جائے، کیونکہ اس سے جراثیم پھیلنے اور مسئلہ بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ آنکھوں کی صفائی کے لیے صاف ٹشو یا الگ صاف رومال استعمال کرنا بہتر ہے۔
اگر آنکھوں میں تکلیف محسوس ہو تو صاف نیم گرم کپڑے سے چند منٹ کے لیے آنکھوں پر پٹی رکھنے سے عارضی آرام مل سکتا ہے۔ تاہم اگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ آنکھوں کے انفیکشن کے دوران میک اپ کے استعمال سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے جلن یا انفیکشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ استعمال کی جانے والی کاسمیٹکس اور برش کی صفائی کا خیال رکھنا بھی اہم ہے۔
اس کے علاوہ تولیے، رومال، تکیے کے غلاف اور بستر کی چادریں باقاعدگی سے تبدیل کرنا چاہیے۔ ذاتی استعمال کی اشیا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کرنے سے بھی انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنکھوں کی علامات میں بہتری نہ آئے یا حالت خراب ہونے لگے تو خود سے دوا استعمال کرنے کے بجائے ماہرِ چشم سے رجوع کیا جائے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق مناسب آئی ڈراپس یا دیگر علاج سے انفیکشن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔