Get Alerts

ڈیل کی بازگشت

ڈیل کی بازگشت

سیاسی چغادریوں کی جانب سے مقتدر قوتوں سے راز ونیاز کی باز گشت نے ایک بار پھر نظریاتی اور جمہوریت پسند رویوں کے حامی حلقوں کے نہ صرف جان لیوا کرب میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ اس بازگشت نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ وہ سب دعوے نعرے کہاں گئے جو سیاسی جماعتوں نے ان ساڑھے تین سال میں، ووٹ کو عزت دو، کے لگائے تھے۔ یہ اس کی کلی طور پر نفی نہیں تو اور کیا ہے۔ ڈیل کی گھن گرج کی چہ میگوئیاں اور اس طرز تکلم سے ترقی پسند حلقوں (حوصلہ شکنی)  کے ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں ترقی پسند اور جمہوری رویوں کے حامیوں کے حوصلے پست ہونا قدرتی امر ہے۔ جو ملک میں مکمل طور پر سیاسی اداروں، پارلیمنٹ کو آزاد ، خود مختار دیکھنے کے لیے ایک طویل عرصہ سے منتظر ہیں بلا شبہ ان کے لیے یہ عمل کسی قیامت سے کم نہیں اور کیوں نہ ہو۔ اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر سیاسی اداروں کی خود مختاری کے حصول کے لیے جدوجہد کا جب بھی کوئی نتیجہ نکلنے کا وقت آتا ہے تو عین اس وقت عوامی جذبات پر ایسی کاری ضرب لگا دی جاتی ہے جس سے جدوجہد کا عمل سبوتاژ ہو جاتا ہے اور ڈھارس گھٹن کا شکار ہو کر دم توڑ جاتی ہے۔ یہ صرف آج کی بات نہیں ہے۔ ایک طویل عرصہ سے یہ عمل تسلسل سے ہوتا آرہا ہے۔ اس لیے اب یہ بات زبان زد عام ہے کہ اہل سیاست نے جب بھی مقتدر قوتوں کی آشیر باد سے اقتدار حاصل کیا۔ چاہے خواہ تعلق ان کا کسی بھی جماعت سے ہو، ان کا کردار محض ایک بے جان کٹھ پتلی کا سا رہا ہے۔ پردے کے پیچھے چھپے ہاتھ اپنی مرضی سے ڈور ہلا کر ریاست کو چلانے کا کھیل دکھاتے ہیں۔ اس کٹھ پتلی کو عرف عام میں وزیراعظم کہا جاتا ہے۔ جنہیں دیکھ کر عوام نئے سرے سے سیاسی اداروں پر طعن و تشنیع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ عوام کے اس ردعمل کا جمہوریت کش حلقے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یوں عوام کی سیاسی و ملکی معاملات سے عدم دلچسپی ، کنارہ کشی ان قوتوں کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ دراصل جہاں اس طرح کی صورت حال ہو وہاں نام نہاد جمہوریت اور آئین و قانون ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ وہاں سیاست نہ صرف عدل اور پارلیمنٹ کی راہداریوں کی گرد بن کر رہ جاتی ہے بلکہ ان راہداریوں کی زینت بن کر دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا کے مصداق گمنام راستوں میں ہی کھو کر دم توڑ جاتی ہے۔ آج ہم جن بحرانوں کی زد میں ہیں یہ ہماری انہی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنا چلن بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک طاقتور حلقوں کی جانب سے کسی اشارے کی پالیسی کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ ہم کسی طور بھی بحرانوں سے نکل نہیں سکتے اور نہ ہی حقیقی جمہوریت دیکھنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔ یہ تو کھلا راز ہے کہ ہمارا سیاسی ڈھانچہ اپنی طرز سیاست اور طرز عمل کی بدولت تباہی سے دوچار ہوا ہے۔ جمہوریت پسند حلقوں میں جب بھی جذبہ پروان چرھنے لگتا ہے تو اسے ڈیل کی گھن گرج مایوسی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اسی لیے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو فہم و فراست کا حقیقی مظاہرہ کرتے ہوئے ووٹ کو عزت دو پر شب خون مارنے کی روش کو اب خیر باد کہہ دینا چاہیے کیونکہ جب جمہوریت پسند حلقو ں میں مایوسی جنم لیتی ہے تو پھر ریاستی کاروبار کا مکمل اختیار ان قوتوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جنہوں نے آج تک جمہوری اداروں کو پنپنے نہیں دیا سیاسی اداروں کو مضبوط ہونے نہیں دیا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا راستہ روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ہے وہ تو وہ ہم نے خو دبھی اپنی حیثیت کو منوانے کے لیے خاطر خواہ کوئی کوشش نہیں کی محض وزارت عظمیٰ کی مسند پر فائز ہونے کے لیے کٹھ پتلی بننے پر اکتفا کیے رکھا ہے۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سیاسی طاقت کے محور حلقے اپنی پرانی روش سے کنارہ کشی پر آمادہ نظر نہیں آرہے۔ دراصل یہی ہماری بربادی کا سامان ہے۔ تباہی کا راستہ ہم نے خود چنا ہوا ہے۔ جب تک اس راستے سے فرار اختیار نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہم کٹھ پتلی تماشہ کا حصہ ہی رہیں گے۔ پارلیمنٹ آئین و قانون کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کے دعوؤں اور نعروں کے بل بوتے پر عوام کے ارمانوں کا خون کیا جاتا رہے گا اور ہم عوام اپنوں کی طفل تسلیوں سے دھوکہ کھاتے رہیں گے۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب امیدیں بیکار ہیں کیونکہ جن کی جانب ہم دیکھ رہے تھے وہ مقتدر قوتوں کی جانب دیکھتے نظر آ رہے ہیں اور مکمل طور پر ایک لائحہ عمل ترتیب دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ یا شاید پہنچ چکے ہیں۔ وقت خود ایک آئینہ ہے اس کو دیکھنے والوں کی نظر ٹھیک ہو تو سب کچھ صاف صاف دکھائی دینے لگتا ہے ۔ اب کسی جماعت سے اچھی خبر کی امید محض دل کو بہلانے کے مترادف ہے کیونکہ جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہو رہا ہے۔ ہم اصل حریف جانتے ہوئے بھی کہ یہ ہمارا خیر خواہ نہیں ہو سکتا ہم اسے اپنا حلیف گرداننے پر بضد ہیں اور جو اصل حلیف ہے اس کو حریف گردان رہے ہیں۔اس کا مطلب تو صاف ہے کہ دور دور تک کہیں سیاسی بالغ نظری کی جھلک دکھائی نہیں دے رہی۔ ان کا یہ سارا عمل یقینا ووٹ کو ذلت دو کے مترادف ہے۔ ڈیل کے حامی رویے اور سوچ سیاسی کلچر کے فروغ میں رکاوٹ اور نقب لگاتے آرہے ہیں۔ جس وجہ سے غیر سیاسی طاقت کے مرکز اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے گئے ہیں۔ جس کا سیاسی جماعتوں کو نقصان یہ ہوا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنی صفوں کے اندر اتحاد اور منظم ہونے کی پالیسی پر توجہ دینا ہی ترک کر دی۔ یوں سیاسی جدوجہد کی لڑائی سیاست کے اکھاڑے میں لڑنے کے بجائے نادیدہ قوتوں کی مدد سے لڑی جانے لگی اس سے نادیدہ قوتوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو مسیحا کے طور پر دکھانا شروع کر دیا۔ اس سے یہ ہو اکہ محرومی، ذلت اور شکست جمہوری اداروں اور عوام کا مقدر بن گئی۔ اب نجانے عوام کبھی اس سے چھٹکارا پا سکے گی یہ کہنا بہت مشکل ہے کیونکہ چھٹکارا دلانے والے خود ان قوتوں کے مرہون منت کی پالیسی اختیار کر چکے ہیں اور ڈیل کے ذریعے ہی اقتدار کی کرسی لینے کی ٹھان چکے ہیں کوئی تو ہو جو ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والوں کو یہ باور کرا سکے کہ ڈیل کے ذریعے اقتدار کا حصول ووٹ کو ذلت دو کے مترادف ہے۔

ٹیگز: