Get Alerts

"آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے وقت میں اسی دفتر میں تھا اور ملبے سے زندہ نکلا"، عباس عراقچی کا سنسنی خیز انکشاف

تہران : ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر کے درمیان ملاقات کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی دنیا میں نہیں رہ رہے، اس لیے ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر کی ملاقات کی باتیں بالکل بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک انتہائی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا واقعہ پیش آیا، وہ خود اسی دفتر میں موجود تھے۔ عباس عراقچی کے مطابق، وہ اس حملے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے ملبے سے زندہ نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

خطے کی صورتحال اور سفارت کاری پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ سعودی عرب خطے کا ایک بڑا ملک اور اہم کھلاڑی ہے، اور ایران نے ہمیشہ ہی سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو خاص اہمیت دی ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اور سعودی عرب مل کر خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی لا سکتے ہیں، اور دونوں ممالک کا اشتراکِ عمل مڈل ایسٹ کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

ٹیگز: