Get Alerts

مقبوضہ کشمیر: بھارتی مظالم میں اضافہ، روزمرہ جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل جاری

مقبوضہ کشمیر: بھارتی مظالم میں اضافہ، روزمرہ جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل جاری

سری نگر : پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی ناکامی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے جبر و تشدد کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ روزمرہ کے سرچ آپریشنز، جعلی مقابلے، اور ماورائے عدالت قتل عام معمول بنتے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں کولگام میں بھارتی فورسز نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں ایک مقامی نوجوان، امتیاز احمد ماگرے کو دریا میں چھلانگ لگاتے ہوئے دکھایا گیا۔ بھارتی میڈیا نے اسے "دہشت گرد" قرار دے کر پراپیگنڈا شروع کر دیا، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان اپنی جان بچانے کے لیے دریا میں کودا تھا۔

قابض بھارتی افواج مقبوضہ وادی میں نوجوانوں کو چن چن کر نشانہ بنا رہی ہیں، اور انہیں جعلی جھڑپوں میں شہید کر کے دنیا کو گمراہ کر رہی ہیں۔ یہ سب ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے بھارتی بربریت پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم عالمی طاقتوں کی عملی خاموشی نے بھارت کو مزید بے خوف بنا دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اگست 2019 سے اب تک کم از کم 995 کشمیری شہید اور 2465 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف اپریل 2025 میں 11 کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 96 ہزار سے زائد کشمیری گزشتہ دہائیوں میں بھارتی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔

قابض حکومت کی پالیسیوں نے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں کشمیریوں کو نہ صرف ان کی جان، بلکہ روزگار، گھروں اور بنیادی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

ٹیگز: