سوات: وزیراعظم عمران خان نے سوات میں صحت سہولت کارڈ کا افتتاح کرنے کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف فوج کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کیخلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مدینے کی ریاست 2 اصولوں پر مبنی تھی جبکہ ایک فلاحِ انسانیت کا نظام اور دوسرا قانون کی بالادستی لیکن ہمارے ملک میں ڈرامہ ہو رہا ہے اور سارے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی ڈاکہ مار کر ساری چیزیں لوٹ لے تو گھر بچانے، کھانے پینے، علاج اور تعلیم کے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور جب مقروض گھر والا ڈاکوؤں کو پکڑ کر پیسہ واپس مانگتا ہے تو ڈاکو کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر ہیں پیسہ واپس نہیں کریں گے۔
انہوں نے خطاب میں مزید کہا کہ نواز شریف اداکاری کر کے لندن جا کر بیٹھ گیا اور ہمیں اس پر ترس آ گیا کیونکہ عورتیں اس کی شکل دیکھ کر رونے لگتی ہیں۔ عدالتوں کو بھی ترس آ گیا کہ عمران خان اسے باہر جانے دو اور میں نے عدالتوں سے کہا کہ کم از کم 7 ارب تو رکھ لو کیونکہ یہ پیسے کا پجاری ہے لیکن وہ چلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پہلے این آر او کی بڑی کوشش کی جبکہ وہ اور بیٹی دونوں چپ رہے لیکن نواز شریف جانتا تھا کہ عمران خان این آر او نہیں دینے والا اور جب اسے یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی تو اس نے باہر سے گیم شروع کر دی۔ پاک فوج اور عدلیہ پر حملے شروع کر دیے اور فوج سے کہہ رہا ہے کہ اپنے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو بدلو یعنی فوج کو کہہ رہا ہے کہ بغاوت کر دو اور یہ صرف اپنا پیسہ بچانے کے لیے لندن میں بیٹھ کر فوج کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت کا کہہ رہا ہے اور اس سے بڑا ملک دشمن کون ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی بیٹی بھی اب وہی بات کر رہی ہے لیکن بیٹے نہیں کر رہے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو جیل میں ہوتے جبکہ ملک میں عورتوں کا احترام ہے جس کا وہ فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کیخلاف زبان استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا مریم نواز کو اس احترام کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ جیسی زبان استعمال کی گئی کوئی اور ملک ہوتا تو مریم کو جیل میں ڈال دیتے۔ نواز شریف گیدڑوں کی طرح باہر بیٹھ کر بات کر رہا ہے اور اب یہ ملک میں فیصلہ کن وقت ہے۔
انہوں نے خطاب کے دوران کہا کہ نواز شریف نے آصف زرداری کو دو بار جیل میں ڈالا اور نواز شریف پر کیس زرداری نے کیے جبکہ آج دونوں اکٹھے ہو کر این آر او مانگ رہے ہیں اور مشرف نے نواز شریف، آصف زرداری کو این آر او دے کر بڑا ظلم کیا جبکہ اس کے بعد ان لوگوں نے پاکستان کا قرضہ چار گنا بڑھایا تھا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا یہ جو مرضی کریں میں انہیں این آر او نہیں دوں گا اور جس دن میں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے ان ڈاکوؤں کو این آر او دیا میں اس دن اپنے ملک سے سب سے بڑی غداری کروں گا جبکہ ملک کو فلاحی ریاست بنانے اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنا پورا زور لگا رہا ہوں۔