اسلام آباد: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج ترکیہ کے شہر استنبول میں شروع ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کے لیے اہم قدم ہیں۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس اجلاس میں فریقین جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار پر بات چیت کریں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق کریں گے جو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کی ضمانت دے گا۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ "پاکستان کا وفد مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے بند ہوں۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہو، تبھی بات کی جاتی ہے، ورنہ وقت کا ضیاع ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کے حملے روکنے کی ضرورت ہے، اور امید ہے کہ افغان طالبان قیامِ امن کے لیے دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے۔
استنبول مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو ہوا تھا، جس میں فریقین ایک اہم معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ اس دوران افغان وفد کی طرف سے بار بار کابل اور قندھار سے ہدایات لینے کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہ ہو سکی تھی۔
اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی وجہ 11 اکتوبر کو پاکستانی سرحد پر حملے تھے، جس کے بعد 19 اکتوبر کو دوحہ میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے بعد، ترکیہ اور قطر کی کوششوں سے فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، استنبول مذاکرات کے اس دور میں افغان طالبان حکومت کے اہم نمائندے، بشمول انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق اور دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین، مذاکرات میں شریک ہیں۔