Get Alerts

27 ویں آئینی ترمیم پر غور، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں ہوگا

27 ویں آئینی ترمیم پر غور، پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں ہوگا

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اہم اجلاس آج کراچی میں ہوگا جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں سی ای سی کو حکومتی ڈرافٹ کے مطابق آئینی ترامیم کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ پیپلز پارٹی کے 27 ویں ترمیم سے متعلق پانچ بڑے تحفظات بھی پیش کیے جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ صوبوں کا حصہ 57 فیصد سے کم نہیں کیا جانا چاہیے، اور صوبائی خودمختاری کو کسی صورت میں واپس نہیں کیا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں، محکمہ تعلیم میں پورے ملک کے لیے ایک ہی نصاب کی تجویز بھی پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کی قیادت حکومتی ڈرافٹ میں اصلاحات کی درخواست کرے گی۔ اگر پیپلز پارٹی کی تجاویز کو تسلیم کر لیا گیا، تو وہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کو تیار ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں 336 ارکان ہیں، جن میں سے 10 نشستیں خالی ہیں، اور موجودہ اراکین کی تعداد 326 ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ارکان کی حمایت ضروری ہے، اور حکومتی اتحاد کو پیپلز پارٹی سمیت 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

حکومتی اتحاد میں سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن ہے، جس کے 125 اراکین ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم کے 22، ق لیگ کے 5، اور آئی پی پی کے 4 اراکین ہیں۔ علاوہ ازیں، مسلم لیگ ضیاء، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کے علاوہ 4 آزاد اراکین کی حمایت بھی حکومتی اتحاد کو حاصل ہے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تعداد 89 ہے، جس میں 75 آزاد اراکین اور جے یو آئی ف کے 10 ارکان شامل ہیں۔ اپوزیشن بینچوں پر سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن بھی موجود ہے۔

ٹیگز: