کیلیفورنیا : نوبیل انعام یافتہ اور "اے آئی گاڈ فادر" کے طور پر مشہور جیفری ہنٹن نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک چونکا دینے والی پیشگوئی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ارب پتی مالکان جیسے ایلون مسک کی دولت میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں بہت سے افراد اپنی نوکریوں سے محروم ہو جائیں گے۔
ایک انٹرویو میں ہنٹن نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے ایمازون، گوگل، آئی بی ایم، اور دیگر اس وقت اپنے ملازمین کو نکال رہی ہیں، اور ان کی جانب سے اے آئی کو ان کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے اے آئی پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور اس کا مقصد زیادہ منافع حاصل کرنا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اے آئی کی ترقی کے باوجود لوگوں کو نوکریوں سے نکالے بغیر کام کیا جا سکے، تو انہوں نے کہا کہ "میرا ماننا ہے کہ ایسا ممکن نہیں، کیونکہ کمپنیاں پیسہ کمانا چاہتی ہیں، اور وہ افرادی قوت کے متبادل کے طور پر اے آئی کا استعمال کریں گی۔"
ہنٹن نے مزید کہا کہ اس طرح کا مستقبل خاص طور پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ارب پتی مالکان جیسے ایلون مسک کو فائدہ پہنچائے گا، اور ان کی دولت میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو جائیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مسئلہ صرف اے آئی کا نہیں، بلکہ ایک سماجی مسئلہ ہے، جس کا تعلق معاشی نظام سے ہے، جس میں زیادہ تر فائدہ صرف دولتمند افراد کو پہنچتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اے آئی کی ترقی کو روکنے کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ اے آئی کے فوائد کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ جیفری ہنٹن، جو کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے 2024 میں اے آئی ٹیکنالوجی پر کیے جانے والے اپنے کام کے لیے فزکس کا نوبیل انعام جیتا تھا۔