دبئی (رپورٹ: سعدیہ عباسی)متحدہ عرب امارات میں مقیم سینئر پاکستانی صحافیوں نے پاکستان کے بعض میڈیا حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یو اے ای کے حوالے سے جاری منفی اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے۔ میڈیا فورم کے تحت منعقدہ ایک خصوصی زوم مباحثے میں شرکاء نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ غیر ذمہ دارانہ تجزیے نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے خلاف ہیں بلکہ یہ یہاں مقیم 20 لاکھ پاکستانیوں کے روزگار، اعتماد اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہیں۔
مباحثے میں شریک صحافیوں نے حالیہ دنوں میں پھیلائی جانے والی ان افواہوں کی سختی سے تردید کی جن میں یو اے ای کے نظام کو کمزور یا معیشت کو بحران زدہ دکھانے کی کوشش کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یو اے ای کی تمام مارکیٹیں، ایئرپورٹس، ٹرانسپورٹ اور معاشی سرگرمیاں معمول کے مطابق پوری فعالیت سے جاری ہیں، اور اسے "ریاستی ناکامی" کا رنگ دینا بدنیتی پر مبنی ہے۔
طاہر منیر طاہر (صدر پی جے ایف) کا کہنا ہے کہ یو اے ای پاکستان کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ یہاں مقیم لاکھوں پاکستانی اپنے خاندانوں کی کفالت کے ساتھ پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مفادات پر وار کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔خالد ملک (صدر پی ایف یو جے یو اے ای) کا کہنا ہے کہ میڈیا کو ہر رائے زمینی حقائق کی بنیاد پر دینی چاہیے۔ محدود دباؤ کو مکمل انہدام بنا کر پیش کرنا معاشی اور سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سعدیہ عباسی (نائب صدر پی جے ایف) کا کہنا ہے کہ بین الدولتی مالی معاملات اور قرضوں کی واپسی کے تقاضوں کو "ناراضی کی کہانی" بنانا درست نہیں۔ جس ملک نے مشکل وقت میں ساتھ دیا، اس کے ساتھ تعلقات میں سنجیدگی اور باہمی احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے۔انصر اکرم (جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے) کے مطابق الفاظ کی ذمہ داری اہم ہے۔ غیر متوازن تجزیے براہِ راست اوورسیز پاکستانیوں کے ذہنی سکون اور سماجی تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔
سید مدثر خوشنود کے مطابق پچیس برس سے یو اے ای میں مقیم ہونے کے ناطے گواہ ہوں کہ یہاں کے نظام نے ہمیشہ پختگی اور استحکام کا مظاہرہ کیا۔ سوال اٹھانا حق ہے لیکن سنسنی خیزی سے گریز کیا جائے۔مباحثے کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یو اے ای کی قیادت نے ہمیشہ دانش اور عوامی فلاح کو مقدم رکھا ہے۔ بیرونی بیانیوں کی اندھی تقلید کے بجائے پاکستانی میڈیا کو ذمہ دارانہ روش اپنانی چاہیے۔ شرکاء نے زور دیا کہ اس وقت خطے کو منفی پروپیگنڈے کے بجائے "شعور اور فہم" کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کے ساتھ ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کا وقار بھی محفوظ رہے۔