اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نئے بجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پہلے ہی پریشان ہیں، اس لیے اضافی ٹیکس یا منی بجٹ کا کوئی سوچنا مناسب نہیں۔
ذرائع کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ایف بی آر نے وزیراعظم کو مختلف ٹیکس تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں انہوں نے منظور نہیں کیا اور بجٹ کی تیاری کے لیے مزید مشاورت کا حکم دیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی موجودہ حالات کے پیش نظر مالی اہداف پر نظرثانی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں افراط زر اور مالی خسارے جیسے اہم نکات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ سازی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور رواں ماہ کے اختتام تک بجٹ کی حتمی تیاری مکمل کر کے جون کے پہلے عشرے میں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا امکان ہے۔