اسلام آباد: مالیاتی شعبے میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے 2024-25 کے دوران 1,761 کیسز پر فیصلے سنائے ہیں، جن میں مختلف خلاف ورزیوں پر کمپنیوں پر 42 کروڑ 50 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق 267 پبلک لسٹڈ کمپنیوں کو کمزور کارپوریٹ گورننس، ناقص مالیاتی رپورٹنگ، اور غیر مجاز سرمایہ کاری پر جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ 49 نان بینکنگ فنانس کمپنیوں میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
انسداد منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی
ایس ای سی پی کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 43 کمپنیاں اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئیں۔
بروکریج اور انشورنس سیکٹر کی خلاف ورزیاں
بروکریج سیکٹر میں 27 کیسز کا فیصلہ ٹیک اوور قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق ہوا۔ انشورنس سیکٹر میں 14 کمپنیوں کو سالونسی، گارنٹی کولیٹرلز اور دیگر امور پر جرمانے کیے گئے۔
غیر لسٹڈ کمپنیاں بھی زد میں
679 غیر لسٹڈ کمپنیوں کو بھی مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانے کیے گئے البتہ 682 کیسز بغیر مالی جرمانے کے بند کر دیے گئے۔ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مالیاتی مارکیٹ میں شفافیت، احتساب اور اعتماد کو فروغ دینا ہے۔