سری نگر : پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت اور جوش و جذبے سے منا رہے ہیں، لیکن مقبوضہ کشمیر میں اس بار بھی کشمیری مسلمان بنیادی مذہبی آزادی سے محروم رہے۔ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں مسلسل ساتویں سال بھی عید کی نماز ادا نہیں ہو سکی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے اس صورتحال پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیری ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کے ساتھ بیدار ہوئے ہیں کہ انہیں عید کے دن بھی اپنی مذہبی آزادی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ جامع مسجد بند ہے اور عیدگاہ میں نماز کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں بھی ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔
میر واعظ نے کہا کہ ایک مسلم اکثریتی خطے میں مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حق — نماز ادا کرنے — سے روکنا، خصوصاً ان کے سب سے اہم مذہبی تہوار پر، انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ انہوں نے ان حلقوں پر بھی تنقید کی جو اس ظلم پر خاموش ہیں اور کشمیریوں کے حقوق کی مسلسل پامالی کو نظر انداز کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے جامع مسجد سمیت دیگر بڑے مذہبی مقامات پر سخت پابندیاں عائد ہیں، جو کشمیریوں کی مذہبی شناخت اور رسومات کو دبانے کی ایک کوشش سمجھی جا رہی ہے۔ کشمیری عوام ایک بار پھر دنیا سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس مذہبی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا نوٹس لیں۔