تحریر: طارق وسیم
گلگت بلتستان میں انتخابی عمل جاری ہے۔ ریاستی اسمبلی کی 24 نشستوں کے لیے 400 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں ،فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اگلے 24 گھنٹے میں نتیجہ سامنے آ جائے گا ۔ بھارت نے کچھ عرصُہ قبل ایک بار پھر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر،گلگت ،لداخ کو انڈیا کے ’اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ‘ حصے قرار دیا جس پر پاکستانی وزارت خارجہ نے بھرپور جواب دیا تھا۔
انڈیا جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقے پر غیر قانونی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے طویل عرصے سے غیر حل شدہ معاملہ ہے۔ اس کا واحد حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مخلصانہ نفاذ کے ذریعے ممکن ہے، جو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے حق خود ارادیت کا غیر سلب شدہ حق فراہم کرتی ہیں۔اسلام آباد نے یہ بھی کہا کہ انڈیا ’تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کرے‘، ’جموں و کشمیر میں کیے گئے تمام غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد واپس لے‘، ’تمام سخت گیر قوانین کو منسوخ کرے‘ اور ’غیر جانبدار مبصرین، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کو زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے رسائی دے، یہ تو تھا پاکستان کا جواب اب ذرا تاریخ کے آئینے میں دیکھ لیتےہیں۔ بھارت کے ان دعوؤں میں کتنی حقیقت ہے؟ تقسیم ہند سے قبل شمالی بھارت ، جموں کشمیر ، پنجاب ،ہماچل پردیش،اتر پردیش ،اتر کھنڈ اور ہریانہ پر مشتمل تھا ،ہندوستان کی 15 ہزار سالہ تاریخ میں ان علاقوں کے لوگ دلی پر حکمران تو رہے، کبھی دلی کے زیر نگیں نہیں رہے ،کبھی مہاراجہ رنجیت سنگھ نے حکومت کی، تو کبھی احمد شاہ ابدالی دلی میں تخت نشین رہا ، وہ تو بھلا ہو شری رام کا جو ایودھیا میں پیدا ہو گئے اور یوں اتر پردیش مقدس قرا ر پایا،بلکہ یوں کہیں کہ طبقاتی بھارت میں یوپی کو رام کی جنم بھومی ہونے کی وجہ سے برہمن کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔
در حقیقت اس علاقے سے نہ تو کبھی کوئی لیڈ ر پیدا ہوا نہ ہی اس کی بھارت کے لیے کوئی خدمات ہیں ،سوائے آبادی بڑھانے کے۔1947 سے قبل بر صغیر چھوٹی چھوٹی خود مختار ، ریاستوں پر مبنی تھا ،انگریزوں نے ایک سیکولر ریاست بنائی تھی، جس کے حکمرانوں نے گزشتہ 78 برسوں میں اپنی ناقص کارکردگی سے ثابت کیا ہے کہ 1947 بلکہ ،انگریزوں کی آمد سے قبل کا سیٹ اپ ہی ٹھیک تھا۔تامل ناڈو ہو ،بہار کیرالہ یا آسام میں سے کوئی بھی ریاست دلی کے زیر انتظام نہیں رہی،نریندر مودی کے دور میں بھارت کو جس شدت کے ساتھ ایک ہندو ریاست بنانے کی کوشش کی گئی ہے، یہ عمل اسی شدت سے باؤنس بیک کرے گا کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ بھارت میں قابل ، لوگوں کی کمی ہو ،جنوبی بھارت ہو یا شمالی انڈیا لوگوں کی بڑی تعداد مذہب اور ریاست کو الگ الگ رکھنے کے حق میں ہیں ۔بھارت لداخ کو اپنا حصہ قرار دے یا آ زاد جموں و کشمیر میں کالعدم امن کمیٹی جیسی تنظیموں کو فنڈنگ کرے ،اس سب سے اس کا کوئی بھلانہیں ہو نے والا۔تاہم یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس کی 20 سے زائد ریاستوں میں موجود احساس محرومی رنگ لائے اور سوویت یونین کی طرح بھارت سے بھی درجنوں ریاستیں علیحدگی اختیار کر لیں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔