اسلام آباد ہائیکورٹ سے عمران خان کو بڑا ریلیف ، وارنٹ گرفتاری معطل 

اسلام آباد ہائیکورٹ سے عمران خان کو بڑا ریلیف ، وارنٹ گرفتاری معطل 
سورس: File

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری معطل کردیے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو 13 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا اور عمران خان کی وارنٹ معطل کرنے کی    درخواست منظور کرلی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد عمران خان 13مارچ تک گرفتاری سے بچ گئے ۔

قبل ازیں سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کا کہنا تھا کہ عدالت خود اپنی اور ان کی سکیورٹی کا بندوبست کریں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میری جان کی فکر چھوڑیں۔’میری جان اللہ کی امانت ہے اور مجھے اپنی جان سے زیادہ یہاں ہر آنے والے سائلین کی فکر ہے۔‘

وکیل عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ پرائیویٹ کمپلیننٹ نومبر 2022 کو دائر ہوئی اور 15 دسمبر کو نوٹس جاری ہوا، 28 فروری کے لیے عمران خان کی طلبی کا کیس سماعت کے لیے مقرر تھا، عمران خان 28 فروری کو دو اسپیشل کورٹس اور ایک ہائی کورٹ میں پیش ہوئے، ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جس کے بعد منسوخی کی درخواست بھی خارج ہوگئی۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ وارنٹ گرفتاری کے تو نہیں تھے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری کے تھے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ قیصر صاحب اب ایسی بات نا کریں، یہ وارنٹ ان کی پیشی یقینی بنانے کے لیے تھا۔

وکیل عمران خان نے کہا کہ ابھی ہم نے دو درخواستیں قابل سماعت ہونے سے متعلق دائر کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کورٹ فریم آف چارج کے لیے ہی تو بلا رہی ہے اور عدالت نے عمران خان کی حاضری یقینی بنانے کے لیے حکم دیا لیکن آپ پیش نہیں ہوئے۔

  

عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جو وارنٹ لیکر کھڑے ہیں وہ چاہتے ہیں گرفتار کیا جائے اور دو مقدمے اسی بنیاد پر درج کیے گئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وہ مقدمے کسی اور وجہ سے درج ہوئے، آپ نے اس آرڈر کے تحت پیش ہونا تھا اب یہ بتائیں کب پیش ہونا ہے؟

وکیل عمران خان نے کہا کہ اس وقت عمران خان کے خلاف چار مقدمے درج ہوئے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ چارج فریم کے لیے آپ کب ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوں گے؟ ابھی عدالت ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا کوئی حکم نہیں دے رہی، چارج فریم ہو جائے اس کے بعد جتنی مرضی آپ استثنیٰ لے لیں اور آپ نے ہائیکورٹ میں 9 مارچ کو پیش ہونا ہے۔

  

وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو سیکیورٹی خدشات بھی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کب ٹرائل کورٹ پیش ہوں گے؟ عدالت کو ہدایات لیکر بتا دیں۔

مصنف کے بارے میں