نئی دہلی : بھارتی فضائیہ کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوے ریت کی دیوار ثابت ہو گئے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ تہلکہ خیز رپورٹ نے بھارتی دفاعی نظام کے پرخچے اڑاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں کی مسلسل تباہی کی اصل وجہ بھارت میں تیار کیے جانے والے ’ناقص اور غیر معیاری انجن‘ ہیں۔
رپورٹ میں بھارتی فضائیہ کی خستہ حالی کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 15 برسوں میں جدید ترین سمجھے جانے والے ایک درجن سے زائد SU-30 طیارے کریش ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 50 برسوں میں بھارت کے تقریباً 470 مگ-21 طیارے حادثات کا شکار ہوئے، جنہیں ہوا میں "اڑتے تابوت" کا نام دیا گیا ہے۔
دبئی ایئر شو کے بعد سے بھارت کے نام نہاد دیسی ساختہ ’تیجس‘ طیارے بھی تکنیکی خرابیوں کے باعث گراؤنڈ کر دیے گئے ہیں۔معروف دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کے مطابق، ’ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ‘ (HAL) کے بنائے گئے انجنوں میں ایسی سنگین فنی خرابیاں موجود ہیں جنہیں برسوں سے پردہ پوشی کے ذریعے چھپایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان انجنوں کی خرابی کی اصل تحقیقات منظرِ عام پر لائی گئیں تو بھارتی فضائیہ کو عالمی سطح پر بدترین سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارتی فضائیہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے ۔ سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھارت کو 45 سکواڈرنز کی ضرورت ہے، لیکن یہ تعداد خطرناک حد تک کم ہو کر صرف 29 رہ گئی ہے۔ لڑاکا طیاروں کی مسلسل کمی اور کریش ہونے والے طیاروں نے بھارتی دفاعی صلاحیتوں کو اپاہج بنا دیا ہے۔