Get Alerts

جنگی وبال ! 

جنگی وبال ! 

تحریر: وجیہہ تمثیل مرزا

گزشتہ ایک ہفتے سے دنیا ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے، کبھی سرحد پار پر چلتی توپوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، کبھی فضاٶں میں اڑتے جنگی لڑاکا طیاروں کا شور۔

 گزشتہ ہفتے پاک افغان سرحد پر جنگی جنون ابلنے لگا لیکن ہماری افواج پاکستان، ہمارے شاہین جنھوں نے ناصرف دشمن کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ افغانستان کے کٸ حصوں کو فتح کر کے پاکستانی پرچم سر بلند کیا، یہ سرحدی جنگ ابھی تھمی نہیں اور دوسری جانب عالمی جنگ نے اپنا ڈنکا بجانا شروع کر دیا۔

 28 فروری 2026 صبح سویرےاسرائیلی میزائلوں نے ایرانی رزمین کو لہو لہان کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ایران نے بھی تابڑ توڑ حملے کرنا شروع کر دیے، اور بڑھتی ہوٸی اس جنگی کشیدگی نے تمام تر مسلم ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا اس وقت سیاسی کشیدگی، علاقائی تنازعات اور طاقتور ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کے باعث ایک غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔

 اگرچہ مکمل عالمی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی، مگر موجودہ حالات ایسے خدشات کو جنم دے رہے ہیں کہ اگر بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم بڑھ گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور انسانی اثرات پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔

 حالیہ عالمی جنگ یا بڑے پیمانے کے عالمی تنازع کے کئی منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ سب سے پہلا اور سنگین اثر انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ جنگ میں نہ صرف فوجی بلکہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بمباری، حملوں اور تباہی کے نتیجے میں ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد اپنی جانیں کھو سکتے ہیں۔

 اس کے علاوہ زخمیوں، یتیم بچوں اور بے گھر افراد کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے جس سے انسانی بحران پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑتا ہے۔ جنگ کے دوران تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ممالک اپنی معیشت کا بڑا حصہ دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے لگتے ہیں جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل، گیس اور خوراک کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

 تیسرا اہم اثر مہاجرین کا بحران ہے۔ جنگ کے دوران لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے مہاجرین کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال سے میزبان ممالک پر معاشی اور سماجی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

 چوتھا اثر ماحولیات پر پڑتا ہے۔ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیار، بم اور کیمیائی مواد ماحول کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ جنگلات تباہ ہوتے ہیں، پانی اور ہوا آلودہ ہو جاتی ہے اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات یہ اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہتے ہیں۔

 پانچواں اثر عالمی امن اور استحکام پر پڑتا ہے۔ جنگ کے باعث بین الاقوامی تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں اور دنیا مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس سے عالمی سطح پر عدم استحکام بڑھتا ہے اور امن قائم کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی جنگ نہ صرف ممالک بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

 اس کے اثرات انسانی زندگی، معیشت، ماحول اور عالمی امن سب پر پڑتے ہیں۔ اس لیے دنیا کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور تعاون کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ ورنہ بے شمار قیمتی جانیں، اور مال ان جنگی حملوں کی نظر ہو جاۓ گا !

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

 
 

ٹیگز: