اسلام آباد: پاکستان میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومتی کوششیں جاری ہیں، اور اس مقصد کے لیے حکومتی اتحاد نے پارلیمنٹ میں اپنی حمایت کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ قومی اسمبلی میں 336 اراکین پر مشتمل ایوان میں 10 نشستیں خالی ہیں، جس کے باعث ایوان میں موجود اراکین کی تعداد 326 ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 اراکین کی حمایت درکار ہے، جبکہ حکومتی اتحاد کو پیپلز پارٹی سمیت اس وقت 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
حکومتی اتحاد میں مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت ہے جس کے 125 اراکین ہیں۔ پیپلز پارٹی کے 74 اراکین، ایم کیو ایم کے 22، ق لیگ کے 5 اور آئی پی پی کے 4 اراکین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کے ساتھ ساتھ 4 آزاد اراکین کی حمایت بھی حکومتی اتحاد کے پاس ہے۔
دوسری جانب، قومی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 89 ہے، جن میں سے 75 آزاد اراکین، جے یو آئی ف کے 10 اراکین، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، بی این پی مینگل اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن اپوزیشن بنچوں پر موجود ہیں۔
سینیٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے لیے 96 میں سے 64 ووٹ درکار ہیں، اور حکومتی اتحاد کے پاس سینیٹ میں 65 ووٹ موجود ہیں۔