تحریر: عمران سعید
ہمارے معاشرے میں ایک جملہ ہے جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے، اور شاید آج بھی اتنی ہی شدت سے لوگوں کی زندگیوں پر حکومت کر رہا ہے — "لوگ کیا کہیں گے؟"
یہ چند الفاظ نہ کسی قانون میں لکھے گئے ہیں، نہ کسی مذہب نے ان کا حکم دیا ہے، مگر اس کی طاقت اتنی ہے کہ یہ انسان کے فیصلے، خواب، حتیٰ کہ اس کی زندگی کی سمت بدل دیتا ہے۔یہ وہ زنجیر ہے جو انسان کے ذہن، فیصلے اور خوابوں کو باندھ دیتی ہے۔ کوئی تعلیم حاصل کرے، شادی کرے یا کاروبار شروع کرے — سب سے پہلے یہ جملہ گونجتا ہے، لوگ کیا کہیں گے؟
اکثر والدین اپنی اولاد کے لیے رشتہ چنتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ لڑکا یا لڑکی خوش رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ "رشتہ اچھے خاندان میں ہے؟ لوگوں کو کیسا لگے گا؟"محبت کرنے والے دو دل اس جملے کی نذر ہو جاتے ہیں، کیونکہ معاشرے کی نظروں میں عزت کی تعریف صرف ظاہری معیار سے کی جاتی ہے، خوشی یا ذہنی سکون سے نہیں۔کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں صرف اس لیے اپنی پسند چھوڑ دیتے ہیں کہ رشتہ “معاشرتی معیار” کے مطابق نہیں۔محبت کو گناہ، اور خوشی کو ضد سمجھ لیا گیا ہے۔ماں باپ اپنی اولاد کی خوشیوں سے زیادہ “لوگوں کے تبصرے” سے خوفزدہ ہیں۔نتیجہ؟ کئی زندگیاں برباد اور سمجھوتے میں گزر جاتی ہیں، صرف اس لیے کہ کوئی ہمت نہیں کرتا کہ کہے "ہمیں لوگوں کی نہیں، اپنی اولاد کی خوشی عزیز ہے۔
"یہی صورت حال چھوٹے کاروبار اور روزگار کے فیصلے کے وقت درپیش ہوتی ہے۔کسی کو اپنے والد کےپیشے سے ہٹ کر کسی اور پیشے میں جانے کا شوق ہے،، کوئی فوڈ ٹرک کھولنا چاہتا ہے،کوئی یوٹیوب پر کچھ نیا کرنا چاہتا ہے — مگر فوراً یہ جملہ گونجتا ہے"اتنی پڑھائی کے بعد یہ کرو گے ؟ لوگ کیا کہیں گے؟"یہی سوچ نوجوانوں کے خوابوں کو دبا دیتی ہے۔حالانکہ وہ کام حلال ، محنت اور عزت سے ہے ۔ ہم نے نوکری کو مقام اور محنت کو کمزوری بنا دیا ہے۔ ۔کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ کامیابی کا معیار نوکری کا ٹائٹل نہیں، بلکہ اپنی محنت سے جینے کا حوصلہ ہے۔کامیابی کی اصل پہچان عہدہ نہیں، عزتِ نفس ہے۔
یہی جملہ عورتوں کی آزادی کے راستے میں سب سے بڑی دیوار بن چکا ہے۔اگر وہ کیریئر بنانا چاہے، تعلیم جاری رکھے، یا شادی کے بعد بھی اپنی شناخت برقرار رکھے تو فوراً آواز آتی ہے۔"تمہیں ضرورت ہی کیا ہے؟ شوہر اجازت دیتا ہے؟ لوگ کیا کہیں گے؟"یہی سوچ عورت کو خوف، گناہ اور شرم کے حصار میں قید رکھتی ہے۔حالانکہ کسی بھی گھر یا معاشرے کی ترقی تبھی ممکن ہے جب عورت کو اپنی مرضی سے جینے کی آزادی ہو۔عزت عورت کی آزادی چھیننے سے نہیں، اسے اعتماد دینے سے بڑھتی ہے۔
"لوگ کیا کہیں گے" دراصل ہماری اجتماعی کمزوری بن چکی ہے۔ ہمیں ایسا غلام بنا دیا ہے کہ ہم اپنی زندگی اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے تاثر کے لیے جیتے ہیں۔ہم اپنے خوابوں کو اس خوف کے تابع کر دیتے ہیں کہ کوئی کیا سوچے گا۔ہم اپنی خوشی قربان کر دیتے ہیں، اپنی مرضی چھپا لیتے ہیں، اور ایک مصنوعی زندگی گزارنے لگتے ہیں صرف اس لیے کہ کوئی بات نہ بن جائے۔حالانکہ لوگ ہمیشہ بات کریں گے ۔ چاہے آپ خاموش رہیں یا بولیں، کامیاب ہوں یا ناکام۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی باتیں چند دنوں کا شور ہیں، آپ کے فیصلے آپ کی پوری زندگی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ جملہ اپنے ذہنوں سے نکال پھینکیں۔لوگ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہیں گے ، مگر ان کی باتیں آپ کی زندگی نہیں بدل سکتیں، صرف آپ کے فیصلے بدل سکتے ہیں۔ اپنی زندگی، اپنی پسند اور اپنے فیصلوں کے لیے خود ذمہ داری لیں۔اگر ہم اپنے بچوں کو، اپنے دوستوں کو، اور خود کو یہ ہمت دے دیں کہ “لوگ کیا کہیں گے” سے زیادہ “میں کیا چاہتا ہوں” اہم ہے۔ تو شاید ہمارا معاشرہ زیادہ خوش، زیادہ جرات مند، اور زیادہ سچا بن جائے۔کیونکہ آخر میں لوگ بھول جاتے ہیں لیکن آپ اپنی قربانیاں نہیں بھول پاتے۔
عمران سعیدمہر، کی عملی صحافت ایک دہائی سے زائدعرصے پر محیط ہے۔وہ پاکستان میڈیا انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں۔ اور مختلف نیوز چینلز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔عمران مہر نہ صرف نیوز روم کی صحافت پر عبور رکھتے ہیں بلکہ وہ بلاگر اور ولاگر بھی ہیں۔ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سےمختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر اپنی تحریریں اور ولاگ قارئین اور ناظرین تک پہنچاتے ہیں۔