لاہور : آج 10 ستمبر کو اردو ادب کے معروف شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر انیس ناگی کی وفات کو 15 برس مکمل ہو گئے۔ 1939ء میں لاہور میں یعقوب علی کے نام سے پیدا ہونے والے انیس ناگی نے اپنی ادبی خدمات سے اردو ادب کو بے شمار تحائف دیے۔
انیس ناگی کو خاص طور پر ان کے ناول ‘زوال’ اور ‘دیوار کے پیچھے’ کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ 1960 کی دہائی میں ‘نئی شاعری’ کی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے، جس نے روایتی شاعری کے انداز کو چیلنج کیا اور نئے تجربات کیے۔ اس تحریک میں ان کے ہمراہ افتخارجالب، محمد سلیم الرحمان، عباس اطہر اور زاہد ڈار جیسے اہم شعراء بھی شامل تھے۔
ڈاکٹر انیس ناگی کی خاص پہچان ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کے نظری اور فلسفیانہ پس منظر کی وجہ سے بھی تھی۔ انہوں نے نہ صرف ناول اور شاعری لکھی بلکہ تنقیدی مضامین اور شعری و نثری تراجم بھی کیے جو اردو ادب کا قیمتی حصہ ہیں۔
انیس ناگی کی سب سے بڑی خوبی ان کی بے باکی اور سچائی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے خیالات کا اظہار بے جھجھک کرتے اور کسی کی ناراضی کی پرواہ کیے بغیر حقائق کا سامنا کرتے۔ ان کے تکھے اور بے باک انداز کو ادب کے حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
ڈاکٹر انیس ناگی 2010ء میں انتقال کر گئے اور انہیں لاہور کے اقبال ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ آج بھی اردو ادب میں ان کا نام فکشن نگار، نقاد اور شاعر کی حیثیت سے عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔