اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع ٹویٹ کیس میں سماجی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اگلی سماعت پر فردِ جرم کا جواب دینے کی ہدایت کر دی۔
سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے تاہم ان کے وکلاء کی عدم دستیابی کے باعث ملزمان کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔
پراسیکیوشن نے سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان مقدمے کو غیر ضروری طور پر طول دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرکاری وکیل عثمان رانا نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر بھی وقت مانگا گیا تھا، اب ٹرائل کو مزید مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے وکلاء کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر ہادی علی چٹھہ کے وکیل موجود نہ ہوئے تو ان کے لیے سرکاری وکیل مقرر کر دیا جائے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے آج بھی فردِ جرم پر کوئی جواب جمع نہیں کروایا گیا، جس پر دونوں کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت فردِ جرم کا جواب دیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نیشنل کرائم کارپورٹڈ اینالیسز اتھارٹی (NCCIA) کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر متنازع ٹویٹس کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔