Get Alerts

پاکستان کا اقوام متحدہ میں غزہ سے کشمیر تک حق خودارادیت کے تحفظ کا بھرپور مطالبہ

پاکستان کا اقوام متحدہ میں غزہ سے کشمیر تک حق خودارادیت کے تحفظ کا بھرپور مطالبہ

واشنگٹن: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کی سیاسی و نوآبادیاتی امور کی خصوصی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام آج بھی غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ استعمار کے باقی ماندہ اثرات کے خاتمے کا عمل ایک اخلاقی امتحان ہے، اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق حق خودارادیت ہر مظلوم قوم کو فراہم کیا جانا چاہیے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا ایک قدیم اور حساس موضوع ہے، جس کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی موثر اور نافذ العمل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزاد، غیر جانبدار اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ کشمیری عوام اپنی مرضی کا اظہار کر سکیں۔

انہوں نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے وہ طاقت اور جبر کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہا ہے۔ تقریباً 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی نے مقبوضہ علاقے کو ایک قید خانہ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد اور غیر قانونی گرفتاریاں عام ہیں۔ انہوں نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

پاکستانی سفیر نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش ایک نوآبادیاتی منصوبہ ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد مذہبی بنیادوں پر عدم برداشت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کی بہادری کو سراہا جو اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن تبھی ممکن ہے جب کشمیر کا مسئلہ انصاف کے تحت حل ہو، کیونکہ امن کو حقوق کی پامالی پر قائم نہیں رکھا جا سکتا۔

غزہ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے انسانی المیے کی شدید مذمت کی، جہاں شہری علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور بے گناہ عورتوں اور بچوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس سفاکی کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ قبضہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہی خطے کی غیر استحکام کی جڑ ہے۔

عاصم افتخار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عرب اور او آئی سی رہنماؤں کے ساتھ حالیہ مشاورت کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک مؤثر سیاسی عمل آگے بڑھے گا۔

پاکستان نے اپنے موقف کو دہرایا کہ وہ ایک آزاد، مستحکم اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے، جو 1967 کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

انہوں نے کہا کہ امن اور قبضہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے، اور جیسے انصاف اور استثنیٰ ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور استعماریت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ جب تک آزادی نہ دی جائے گی، انسانی وقار پامال ہوتا رہے گا، اور 21ویں صدی کی عالمی برادری نوآبادیاتی تسلط کے تسلسل کو کبھی قبول نہیں کر سکتی۔

ٹیگز: