تحریر: مشال ملک
دنیا کے موجودہ منظرنامے میں اگر کہیں ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے تو وہ ہے فلسطین۔ خصوصاً غزہ کی سرزمین، جہاں معصوم بچوں، بوڑھوں، عورتوں، اور عام شہریوں پر گرتے بم صرف جسموں کو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو چھلنی کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی ریاست نے 1948 سے لے کر آج تک فلسطینی قوم پر جس منظم انداز سے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، وہ کسی بھی بین الاقوامی انسانی قانون، اخلاقی اصول یا ضمیر کے دائرے میں نہیں آتا۔
فلسطینی قوم ایک ایسی سرزمین پر زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہی ہے جو ان کی اپنی ہے، جس پر ان کے آباؤ اجداد نے زندگی گزاری، جہاں ان کے قبلے، قبریں اور خواب دفن ہیں۔ مگر افسوس کہ ان سے یہ سب چھینا جا رہا ہے — گھروں سے نکالا جا رہا ہے، زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے، مسجد اقصیٰ جیسے مقدس مقامات کی بے حرمتی ہو رہی ہے، اور جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ کیا آزادی مانگنا دہشت گردی ہے؟ کیا تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ کا حق صرف مخصوص قوموں کے لیے ہے؟ یہ سوال آج پوری دنیا سے کیا جانا چاہیے۔
غزہ کو "دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل" کہا جاتا ہے۔ وہاں نہ بجلی ہے، نہ صاف پانی، نہ ادویات، اور نہ ہی بنیادی انسانی ضروریات۔ اسرائیلی ناکہ بندی اور بار بار کی جانے والی فضائی بمباری نے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے اور لاکھوں کو بے گھر۔ اسکول، اسپتال، مساجد اور پناہ گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ بچے اسکول کی بجائے ملبے سے اپنے کھلونے تلاش کر رہے ہیں، اور مائیں اپنے معصوم لختِ جگر کی لاشیں اٹھا رہی ہیں۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ انسانیت کی کھلی توہین ہے۔
اس ظلم پر عالمی برادری کی خاموشی مزید تکلیف دہ ہے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اور دیگر بڑی طاقتیں صرف تشویش کا اظہار کر کے خاموش ہو جاتی ہیں، مگر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ مغربی میڈیا اسرائیل کو "اپنی دفاعی کارروائیاں" کرنے والا ملک بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ اصل تصویر یہ ہے کہ ایک طرف دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوج ہے، اور دوسری طرف نہتے، محصور اور زخمی لوگ۔ یہ برابری کی جنگ ہرگز نہیں، بلکہ طاقت اور مظلومیت کی واضح کشمکش ہے۔
آج فلسطین کے حق میں بات کرنا کسی سیاسی ایجنڈے کا حصہ بننا نہیں، بلکہ انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا نہ صرف ہمارا اخلاقی فرض ہے بلکہ دینی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم خاموش رہے، تو ہماری خاموشی کل کسی اور مظلوم کے لیے جرم بن جائے گی۔ فلسطینیوں کا ساتھ دینا، ان کے لیے دعا کرنا، ان کی مدد کرنا، اور ان کے حق میں سچ بولنا ہم سب کا فرض ہے۔ چاہے یہ سچ ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہو، ایک تحریر ہو، یا ایک عملی قدم — ہر آواز، ہر عمل اہم ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ظلم کبھی قائم نہیں رہتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مظلوم جاگتا ہے، تو ظالم کی سلطنتیں زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ فلسطین بھی آزاد ہوگا، کیونکہ اس کی جدوجہد صرف زمینی نہیں، روحانی ہے۔ وہ سرزمین جہاں انبیاء آئے، جہاں اذانیں بلند ہوئیں، جہاں مظلوم نے حق کے لیے جان دی — وہ سرزمین ظلم کے اندھیروں میں زیادہ دیر نہیں رہے گی۔ وہ دن ضرور آئے گا جب غزہ میں خوشیاں لوٹیں گی، بچے مسکرائیں گے، اور مسجد اقصیٰ پھر سے امن کا گہوارہ بنے گی۔
مشال ملک، کمیونیکیشن اسٹڈیز کی طالبہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک ورکنگ جرنلسٹ ہیں۔ وہ مختلف ویب سائٹس اور بلاگز کے لیے سماجی، سیاسی، خواتین اور کھیلوں سے متعلق موضوعات پر گہرائی سے تجزیہ اور تحریر کرتی رہتی ہیں۔ مشال نہ صرف اردو زبان میں بلکہ انگریزی میں بھی مہارت کے ساتھ تحریر کرتی ہیں، جس کی بدولت ان کی تحریریں وسیع تر قارئین تک پہنچتی ہیں۔ ان کی تحریریں اپنے موضوعات کی حساسیت اور حقائق کی عکاسی کی وجہ سے قارئین میں خاصی مقبول ہیں اور وہ مسائل کی روشنی میں تبدیلی کی کوشش میں مصروف رہتی ہیں۔