Get Alerts

پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 50 سے زائد ہلاکتیں اور 42 لاکھ سے زائد افراد متاثر

پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی صورتحال سنگین، 50 سے زائد ہلاکتیں اور 42 لاکھ سے زائد افراد متاثر

لاہور : پنجاب میں دریاؤں کی سیلابی صورتحال تاحال برقرار ہے جس کے باعث اب تک 50 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 42 لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق صوبے کے 4100 سے زائد موضع جات سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں جن میں سے 20 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق، سیلاب متاثرہ اضلاع میں 423 ریلیف کیمپس، 512 میڈیکل کیمپس اور 432 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں، اور 15 لاکھ سے زائد جانوروں کو بھی محفوظ جگہ منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان کے بڑے ڈیمز منگلا 87 فیصد، تربیلا 100 فیصد اور بھارت کے بھاکڑا، پونگ اور تھین ڈیمز بھی تقریباً بھر چکے ہیں، جس کی وجہ سے بارشوں کے نئے سلسلے سے پانی کے اخراج کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

پنجاب کے شہر چشتیاں کے علاقے میں سیلابی پانی کے حفاظتی بند کو توڑنے کی کوشش کے الزام میں پولیس نے 17 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ بہاولنگر کے ستلج بیلٹ میں متعدد عارضی بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ زمین زیر آب آ چکی ہے اور کئی دیہات شہروں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

ملتان میں دریائے چناب کا سیلاب تحصیل شجاع آباد اور جلالپور پیر والہ میں شدید تباہی مچا رہا ہے، جہاں 50 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ انہار شہر کو بچانے کے لیے 8 کلومیٹر لمبا عارضی بند بنا رہا ہے، اور شیر شاہ فلڈ بند کو مضبوط بنانے کا کام جاری ہے۔

ہیڈ پنجند اور چنیوٹ میں بھی سیلاب کی شدت برقرار ہے جبکہ علی پور میں سپر بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بہاولنگر میں سیلاب سے 143 دیہات متاثر اور ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے مگر سیلابی خطرہ برقرار ہے۔ دریائے راوی کے مائی صفوراں بند سے نکلنے والا سیلابی ریلہ کبیروالا کے 40 دیہات کو ڈبو چکا ہے، جہاں 80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

سندھ میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہو چکا ہے، ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پنجند بیراج، تریموں بیراج، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز پر پانی کی آمد اور اخراج کی بلند ترین سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔

سیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ محکمہ آبپاشی حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں کی مرمت میں مصروف ہے۔

ٹیگز: