ٹوکیو: جاپان کے وزیرِاعظم شیگرو ایشیبا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ملک کی قیادت سنبھالنے والے نئے وزیراعظم کے انتخاب پر تمام نظریں مرکوز ہو گئی ہیں۔
شیگرو ایشیبا کی جماعت، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور اس کی اتحادی جماعت نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دی ہے، جس کی وجہ سے نئے رہنما کے انتخاب کا عمل پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ایل ڈی پی کو سب سے پہلے پارٹی کا نیا صدر منتخب کرنا ہوگا جو وزیرِاعظم کا امیدوار بھی ہوگا۔ اس کے لیے امیدواروں کو کم از کم 20 قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ انتخاب میں پارٹی کے ارکان اور قانون ساز ووٹ دیتے ہیں۔ اگر پہلے مرحلے میں کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہو تو سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان رن آف ہوتا ہے۔
رن آف میں ہر قانون ساز کو ایک ووٹ ملتا ہے جبکہ پارٹی کے عام ارکان کے ووٹ 47 حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اگر ووٹ برابر ہوں تو قرعہ اندازی سے فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ایل ڈی پی کا صدر ہمیشہ وزیراعظم نہیں بنتا کیونکہ پارٹی کو پارلیمان میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔ وزیراعظم کا انتخاب ایوان زیریں میں ہوتا ہے جہاں ارکان کسی بھی امیدوار کو نامزد کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں اکثریت حاصل کر لیتا ہے تو اسے وزیرِاعظم منتخب کر لیا جاتا ہے، ورنہ رن آف ہوتا ہے۔
ایوان بالا بھی وزیرِاعظم کے انتخاب میں ووٹ دیتا ہے لیکن اگر دونوں ایوان مختلف امیدواروں کو منتخب کریں تو ایوان زیریں کا فیصلہ حتمی مانا جاتا ہے۔ نئے وزیراعظم کو قومی مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے فوری عام انتخابات کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
یہ تبدیلی جاپان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔