لاہور : پاکستان کی کم عمر مارشل آرٹس ایتھلیٹ فاطمہ نسیم نے ایک اور شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے عالمی ریکارڈز کی تعداد 10 تک پہنچا دی ہے۔ فاطمہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔
فاطمہ نسیم نے ہاتھوں میں انڈے تھام کر ایک منٹ کے دوران 340 پنچز لگا کر بھارت کی کھلاڑی دیبیاجوتی سرکار کا 331 پنچز کا ریکارڈ توڑ دیا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز نے فاطمہ نسیم کی ایک اور غیر معمولی کامیابی کو بھی عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے دو کرسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک منٹ 45 سیکنڈ تک سٹریچنگ کی، جبکہ اس کیٹیگری میں سابقہ ریکارڈ ایک منٹ 30 سیکنڈ تھا۔
فاطمہ اس سے قبل بھی کئی عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے ریکارڈ توڑ چکی ہیں۔ وہ چار بھارتی کھلاڑیوں کو شکست دینے کے علاوہ دنیا کی معروف لچکدار ایتھلیٹ لبرٹی باروس کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔ لبرٹی باروس برطانیہ، امریکا اور سپین کے معروف شوز میں اپنی غیر معمولی جسمانی لچک کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔
اسی طرح فاطمہ کو جرمنی کی معروف مارشل آرٹس ایتھلیٹ پالینا گلیبووا کو پیچھے چھوڑنے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جو متعدد عالمی ریکارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔ فاطمہ بھارتی مارشل آرٹسٹ کرن یونیال کا ریکارڈ بھی توڑ چکی ہیں۔
کم عمری میں مسلسل عالمی ریکارڈز قائم کرنے والی فاطمہ نسیم پاکستان کا نام بین الاقوامی سطح پر روشن کر رہی ہیں، تاہم حیران کن طور پر انہیں اب تک حکومتی سطح پر کوئی باقاعدہ سرپرستی یا معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔
فاطمہ کا خاندان بھی عالمی ریکارڈز کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتا ہے۔ ان کے والد، والدہ، دادا اور بھائی بھی گنیز ورلڈ ریکارڈز ہولڈرز ہیں۔ خاندان کے تمام افراد نے مل کر پاکستان کے نام 180 سے زائد عالمی ریکارڈز درج کرائے ہیں۔
فاطمہ کے والد نسیم انفرادی طور پر بھی پاکستان کے لیے 165 عالمی ریکارڈز قائم کر چکے ہیں۔ یہ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت مسلسل محنت کر رہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔