لاہور: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری خطرناک اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 2885 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ 89 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی جانب سے جاری بیان میں عوام کو حالیہ خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے۔ تاہم معاشی صورتحال کی وجہ سے ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے سامنے ملکی معیشت کو بچانا اور صحت عامہ جیسے مسائل درپیش ہیں۔ ہمیں دونوں کو دیکھ کر چلنا ہے۔
این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں کنفرم کیس 423179، ایکٹو کیس 44128 جبکہ اس وبا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 370474 ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دونوں بڑے صوبے پنجاب اور سندھ کی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ گھمبیر ہے جہاں سے اموات اور مریضوں کی تعداد بڑھنے کی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں۔
صوبہ پنجاب میں 124191 کنفرم کیس، 936 ایکٹو کیس اور 3218 اموات سامنے آ چکی ہیں۔ صوبہ سندھ کی بات کی جائے تو وہاں اب تک 3060 شہری وبائی مرض میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ کنفرم کیسوں کی تعداد 186212 اور ایکٹو کیس 22219 ہیں۔
ملک کے دیگر حصوں کی بات کی جائے تو آزاد کشمیر کے 182، بلوچستان 169، گلگت بلتستان 98، اسلام آباد 341 اور خیبر پختونخوا کے 1419 شہریوں کی عالمی وبا کی وجہ سے اموات ہو چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 50078، اسلام آباد میں 33061، گلگت بلتستان میں 4746، بلوچستان میں 17501 اور آزاد کشمیر میں 7390 کنفرم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک میں عالمی وبا کی اموات اور کیسز کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پاکستان میں صورتحال الارمنگ ہوتی جا رہی ہے۔