اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا، جس میں گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جامع منصوبے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ سٹی کو بلا تعطل، مناسب قیمت اور قابل بھروسہ بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 100 میگا واٹ کے سولر پراجیکٹ سے گلگت بلتستان میں ماحولیاتی اعتبار سے صاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور اس پر فوری عملدرآمد شروع کیا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنا کر پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جائے گا، جو کہ صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
وفاقی وزیر برائے توانائی نے بریفنگ میں بتایا کہ گوادر میں وزارت توانائی کی طرف سے فوری اقدامات کی بدولت بجلی کی فراہمی میں تعطل 42 فیصد تک کم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ میں گوادر میں فراہم کردہ بجلی کی وولٹیج کو مستحکم کرنے کے لئے بھی جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ کا سولر پراجیکٹ دو حصوں پر مشتمل ہے، جس میں 18 میگا واٹ چھتوں پر سولر پروگرام اور 82 میگا واٹ یوٹیلٹی سکیل سولر پر مشتمل ہے۔ یہ منصوبہ 2027 تک مکمل کیا جائے گا اور حکومت کو سالانہ ایک ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔