واشنگٹن : معتبر امریکی جریدے 'نیشنل انٹرسٹ' نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور ان کے سرحد پار روابط پر ایک چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے۔ جریدے نے خبردار کیا ہے کہ بی ایل اے اب دہشت گردی کے ایک ایسے خطرناک اور بدلتے ہوئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے امریکا اور عالمی برادری مزید نظر انداز نہیں کر سکتے۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کی حکمتِ عملی اب روایتی شورش سے ہٹ کر "کم لاگت اور زیادہ خوف" پھیلانے کے ماڈل پر منتقل ہو چکی ہے۔ جریدے نے انکشاف کیا کہ بی ایل اے اپنے محدود اور منتشر حملوں کو ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے کہ وہ ایک بڑی کامیابی معلوم ہوں۔
اس ڈیجیٹل پراپیگنڈے کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور اپنی عسکری حیثیت کو حقیقت سے زیادہ دکھانا ہے۔
نیشنل انٹرسٹ نے بی ایل اے کے سرحد پار روابط پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد منصوبہ ساز اب ایران کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں نسلی تقسیم پیدا کرنے کی آوازیں بلوچ دہشت گردوں کے تزویراتی (Strategic) منصوبوں کا اہم حصہ بن رہی ہیں، جو خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
جریدے نے امریکی پالیسی سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بی ایل اے کی ان بدلتی ہوئی چالوں اور سرحد پار رابطوں پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ دہشت گرد گروہ اب علاقائی استحکام کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا چیلنج بن چکا ہے۔